احمد آباد،26جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جسودا بین 19 جون کو احمد آباد کے سابرمتی آشرم سے نکلی ’ہند۔پاک دوستی اور امن یاترا‘ میں شامل ہوئیں اور کہا کہ ان مسافروں کو میں مبارکباد دیتی ہوں جو عالمی امن چاہتے ہیں ،میں بھی دعا کرتی ہوں کہ ان مسافروں کی دعا قبول ہو۔جسودا بین نے سرحد پر فوجیوں کی ہلاکتوں کو بھی غلط بتایا، ساتھ ساتھ کسی بھی فوجی کی کسی بھی سرحد پر قتل نہ ہو اس کی بھی دعا کی۔جسودابین کے ساتھ ان کے بھائی اشوک مودی بھی یاتراکے استقبال کے لئے آئے۔ اس دوران ہند۔پاک سفر زندہ باد، جنگ نہیں امن چاہیے، پوری دنیا میں امن قائم ہو، جوہری اسلحہ تباہ کرو،’ جنوبی ایشیا کو جوہری اسلحوں سے پاک کرو‘ جیسے نعرے لگائے گئے جس کو جسودا بین اور اشوک مودی نے حمایت دی۔آپ کو بتا دیں سوشلسٹ نظریے کے سماجی کارکن اور میگ سیسے ایوارڈ یافتہ سندیپ پانڈے کی قیادت میں 19 جون کو ہند۔پاک دوستی اور امن یاترا نکالی گئی لیکن احمد آباد پولیس کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر پہلے دن پانڈے سمیت دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا، ان کے چھوٹنے کے بعد گاندھی نگر سے دوبارہ یاترا شروع کی گئی تھی جو 30 جون کو ہند۔ پاک سرحد نڈابیٹ پر اختتامی پروگرام کے ساتھ ختم ہو گی۔ سول سوسائٹی اور سیاسی لوگوں کی بڑی تعدادکا 30 جون کی اختتامی تقریب میں شرکت کرنے کا امکان ہے۔اس موقع پر سندیپ پانڈے نے بتایا کہ پوری یاترا میں اب تک صرف تین سے چار لوگ ہی ایسے ملے ہیں جنہوں نے یہ کہا کہ ہند۔ پاک دوستی ہو ہی نہیں سکتی، زیادہ تر لوگوں نے یاترا کا خیر مقدم کیا اور اس معاملے کو حمایت بھی دی۔پانڈے نے مزید بتایا کہ مودی حکومت کے چار سالہ حکومت کے بعد عوام کو سمجھ میں آ گیا ہے منہ توڑ جواب دینے والی حکومت کے پاس بھی کوئی اختیار نہیں ہے، اب صحیح راستہ یہی ہے کہ دونوں ملک تعلقات اچھے کریں۔ اس یاترا کی سب سے بڑا کامیابی یہ ہے کہ اسے عام آدمی اور جسودا بین کی حمایت حاصل ہے۔پانڈے نے بتایا کہ یاتراجب بلساینا گاؤں پہنچی تولوگوں نے گرمجوشی کے ساتھ خیر مقدم کیا۔ اس گاؤں میں 100 سے زائد خاندان موجود ہیں جن کے رشتہ دار پاکستان میں ہیں لیکن ان کے لئے پاکستان سے ویزا حاصل کرنا ناممکن ہے۔